15 اگست 2013 - 19:30
وہابیوں نے کس بہانے سے روضہ بقیع کو منہدم کیا؟/ پیغمبر اسلام(ص) کو یہ کیا منہ دکھائیں گے؟

جنت البقیع میں مدفون ائمہ طاہرین(ع) کون سی ذوات مقدسہ ہیں؟/ بقیع کی قبور پر روضہ پہلی بار کب تعمیر کیا گیا تھا؟/ کیا گزشتہ صدیوں میں مسلمان اور علمائے اہلسنت بقیع میں بنے روضے پر معترض تھے؟/ بعض کا کہنا ہے کہ اہلبیت (ع) چونکہ مسلمانوں اور شیعوں کے دلوں میں جگہ رکھتے ہیں ان کے روضوں کو منہدم کردینے سے کوئی فرق نہیں پڑتا؟

اہلبیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ آج شوال کی آٹھ تاریخ ہے یہ تاریخ، تاریخ اسلام کے ایک المناک واقعے کی یاد دلاتی ہے۔ وہ المناک واقعہ جو سعودی عرب میں آل سعود کی حکومت کے بر سر اقتدار آنے کے بعد آٹھ شوال سن ۱۳۴۴ھ کو وجود میں لایا گیا اور وہابی ملاوں کے فتووں سے بقیع میں اہل بیت پیغمبر اکرم(ص) کے روضے کو منہدم کر دیا گیا۔حجۃ الاسلام و المسلمین استاد محمد جعفر مروجی طبسی نے ابنا کے ساتھ گفتگو میں  بیسوی صدی عیسوی کے اس دردناک ترین حادثہ کے مختلف زاویوں پر روشنی ڈالی ہے۔

ابنا: برائے مہربانی ابتداءً قبرستان بقیع کے تاریخچہ کی طرف مختصر اشارہ کیجئے۔ــ بسم الله الرحمن الرحیم. الحمدلله رب العالمین و صلی الله علی سیدنا و نبینا ابی القاسم محمد و علی اهل بیته الطیبین الطاهرین الذین اذهب الله عنهم الرجس و طهرهم تطهیراً.بقیع حرم نبوی (ص) کے بعد مدینہ کا اہم ترین اور افضل ترین مقام ہے۔ بقیع کا قبرستان سب سے پہلا وہ قبرستان ہے جو رسول اسلام (ص) کے حکم سے مسلمانوں کے ذریعے تاسیس کیا گیا۔ بقیع کی اہمیت اور فضیلت میں اتنا ہی کہنا کافی ہے کہ پیغمبر اکرم(ص) نے اس کے بارے میں فرمایا: ’’بقیع سے ستر ھزار لوگ محشور ہوں گے کہ جن کے چہرے چودہویں کے چاند کی طرح چمک رہے ہوں گے‘‘۔قبرستان بقیع، اسلام کے قدیمی ترین اور ابتدائی ترین آثار میں سے ہے۔ بقیع اولاد رسول(ص) کا مدفن ہے۔ بقیع بعض روایات کے مطابق حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کا مدفن ہے۔ بقیع چار ائمہ معصومین؛ امام حسن (ع)، امام سجاد(ع)، امام محمد باقر(ع) اور امام جعفر صادق(ع) کا مدفن ہے۔ بقیع پیغمبراکرم(ص) جلیل القدر صحابہ کا مدفن ہے۔ بقیع حضرت ام البنین (س) کا مدفن ہے۔ بقیع رسول اسلام(ص) کی دایہ جناب حلیمہ کا مدفن ہے۔ بقیع بہت ساری عظیم ہستیوں کا مدفن ہے کہ جن کے ناموں کو یہاں بیان کرنا ممکن نہیں ہے۔ ابنا: بقیع میں مدفون چار ائمہ معصومین(ع) کے بارے میں مزید بتائیں تاکہ عالم اسلام کو معلوم ہو کہ وہابیوں نے کن ذوات مقدسہ کا روضہ منہدم کیا؟ان چار ائمہ معصومین (ع) کی شخصیات کو بیان کرنا ہمارے بس سے باہر ہے چونکہ ان کا مقام اتنا بلند اور بالا ہے کہ غیر معصوم ان کے مقام کا ادراک کرنےسے عاجز ہے۔ لیکن میں اتنا ہی آپ کی خدمت میں عرض کروں گا کہ امام محمد باقر علیہ السلام ان چار ائمہ میں سے ایک ہیں جو بقیع میں مدفون ہیں۔ اہلسنت کے پہلے درجہ کے عالم دین ’’مسلم‘‘ نے اپنی کتاب صحیح مسلم کی پہلی جلد کے صفحہ نمبر ۱۵ پر جابر بن یزید جعفی سے ایک روایت نقل کرتے ہیں جو نہایت قابل توجہ ہے۔ روایت یہ ہے  کہ جابر کہتے ہیں: « عندي سبعون الف حديث عن ابي جعفر عن النبي كلها صحيح». غور کیجیے، ایک آدمی جابر بن یزید جعفی یہ کہہ رہا ہے کہ میرے سینے میں امام محمد باقر(ع) سے مروی ستر ہزار حدیثیں ہیں۔ قابل توجہ بات یہ ہے کہ یہ ستر ہزار حدیثیں صرف امام محمد باقر علیہ السلام نے رسول اسلام (ص) سے نقل کی ہیں۔ آپ اس سے کیا سمجھتے ہیں؟ یہ نکتہ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ ہمارے ائمہ معصومین(ع) خصوصا امام محمد باقر(ع) تعلیمات نبوی (ص) کی نشر و اشاعت میں کس مقام پر فائز ہیں!۔ ان مطالب کا بیان کرنا ممکن ہے آسان دکھائی دے لیکن یہ خارق العادہ کام ہے کہ ایک اکیلا شخص ستر ہزار روایتیں رسول اسلام(ص) سے نقل کرتا ہے۔اس کے بعد بقیع میں مدفون ائمہ میں سے ایک، امام جعفر صادق (ع) ہیں۔ ہماری زبان ان عظیم کارناموں کو بیان کرنے سے قاصر ہے جو امام صادق علیہ السلام نے اس گھٹن کے ماحول میں انجام دئے۔ میں یہاں پر صرف آپ کے لیے شیخ مفید کا ایک نکتہ نقل کرتا ہوں جو انہوں نے اپنی کتاب ’’الارشاد‘‘ میں لکھا ہے۔ انہوں نے امام صادق علیہ السلام سے جن راویوں نے روایتیں نقل کی ہیں ان کی تعداد ۴۰۰۰ بیان کی ہے۔ قابل غور بات یہ ہے کہ ۱۴۰۰ سال پہلے بنی امیہ اور بنی عباس کی پابندیوں کے باوجود امام صادق علیہ السلام نے ایک ایسا حوزہ علمیہ تاسیس کیا کہ جس میں ۴۰۰۰ شاگرد زیر تعلیم تھے۔ آج اتنی ترقی و پیشرفت اور ہر طرح کے وسائل فراہم ہونے کے باوجود ہمارے تمام حوزہ ہائےعلمیہ چاہے نجف کے ہوں یا قم و مشھد کے سب امام باقر اور امام صادق علیہما السلام کے حوزہ علمیہ کے سامنے ہیچ ہیں۔امام حسن مجتبیٰ اور امام سجاد علیہما السلام کی شخصیات بھی تمام مسلمانوں کے نزدیک جانی پہچانی ہیں انہیں پہچنوانے کی ضرورت نہیں ہے۔ابنا: اس وقت بقیع میں تمام قبریں بغیر نام و نشان کے ہیں ۔ لیکن پرانی تصاویر سے معلوم ہوتا ہے کہ بقیع میں ان قبور پر گنبد اور مقبرے بنے ہوئے تھے۔ کیا بقیع ہمیشہ سے ایسی غیر معمولی حالت میں تھی؟نہیں بقیع ہمیشہ سے ایسے نہیں تھی۔ بقیع میں ائمہ معصومین(ع) اور بہت سارے صحابہ کی قبروں پر مقبرے بنے ہوئے تھے۔ابنا: ائمہ معصومین(ع) کی قبروں پرسب سے پہلے بنائے گئے روضے کی تاریخ کی بارے میں کچھ بیان کر سکتے ہیں؟بقیع میں مدفون ائمہ معصومین(ع) کی قبروں پر سب سے پہلے بنائے گئے روضے کی تاریخ دقیق معلوم نہیں ہے۔ لیکن مجموعی طور پر قرآئن یہ بتاتے ہیں کہ پانچویں صدی ہجری کے بعد بقیع کی قبور پر روضہ بنا ہوا تھا۔ یعنی ’’مجد الملک‘‘ کے زمانے میں جو ۴۹۲ ہجری میں قتل کیے گئے اور ذہبی انہیں ایک عظیم انسان کے عنوان سے یاد کرتے ہیں یہ روضہ تعمیر تھا۔اس بات کی طرف توجہ کرتے ہوئے کہ بقیع کا معمار، مجد الملک کے دور میں ہی قتل کر دیا گیا یہ معلوم ہو سکتا ہے کہ بقیع میں ائمہ معصومین(ع) کی قبروں پر روضہ پانچویں صدی ہجری میں تعمیر کیا گیا ہو گا۔

ابنا: اس سلسلے میں کچھ مکتوب اسناد پائی جاتی ہیں؟بہت ساری اسناد ہیں۔ مثال کے طور پر معروف سیاح ابن جبیر متوفیٰ ۶۱۴ ہجری نے روضہ بقیع کے بارے میں ایک دقیق جملہ لکھا ہے جس کا ترجمہ عرض کرتا ہوں وہ کہتے ہیں: ’’وہ بلند اور فلک نما گنبد ہے جو بقیع کے دروازے کے پاس واقع ہے‘‘۔ یہ بات بالکل صحیح اور حقیقت کی عکاسی کرتی ہے اور اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ہم اس وقت بقیع میں جس جگہ پر ائمہ کی قبروں کی زیارت کرتے ہیں وہ درست ہے۔معروف مورخ اسلام ابن نجار کہ جو ساتویں صدی ہجری کے مورخین میں سے تھے روضہ بقیع کے بارے میں کہتے ہیں: ’’ یہ بزرگ اور بلند گنبد ایک طولانی تاریخ کا حامل ہے۔ اس بارگاہ کے دو دروازے ہیں کہ جن میں سے ایک ہر روز کھلتا ہے‘‘۔ایک اور اہم نکتہ اس سلسلے میں پایا جاتا ہے جوروضہ بقیع کی تعمیر کے بارے میں ہے۔ اہلسنت کی تواریخ میں آیا ہے کہ سن ۵۱۹ ھ میں عباسی خلیفہ المسترشد باللہ نے ائمہ بقیع کی قبور پر روضہ اور گنبد کی تعمیر نو کروائی۔ یعنی پہلے سے ان قبروں پر ایک گنبد بنا ہوا تھا جس کی سن ۵۱۹ ھ میں دوبارہ تعمیر کروائی گئی۔ابنا: بنابرایں، اس دور کے اہلسنت نہ صرف ائمہ اطہار(ع) کی قبروں پر روضے بنانے کے مخالف نہیں تھے بلکہ خود تعمیر کرتے تھے۔جی ہاں، کلیدی نکتہ یہی ہے۔ اہلسنت کے بزرگ علماء کی کتابوں سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ بارگاہ بقیع ہزار سال پرانی تاریخ کی حامل ہے اور اس ہزار سال میں کسی بھی مسلمان نے یہ نہیں کہا کہ یہ شرک اور بدعت ہے اور اسے منہدم کر دینا چاہیے۔ابنا: اس عظیم بارگاہ کی خصوصیات کے بارے میں بھی کچھ منقول ہے؟جی ہاں، تاریخی اسناد و مدارک میں اسلامی آثار اور مقدس مقامات کی خصوصیات درج ہیں۔ یعنی مورخین نے روضوں کے گنبدوں کی اونچائی اور چوڑائی کو بھی نقل کیا ہے۔ عمارتوں کی شکل وصورت کی بھی منظر کشی کی ہے جیسا کہ لکھا ہے کہ بقیع میں تعمیر شدہ روضہ آٹھ ضلعی تھا۔ جیسے امام حسین (ع) کا روضہ شش ضلعی ہے۔

ابنا: ائمہ اطہار کے علاوہ کیا بقیع میں مدفن دوسری شخصیات کی قبروں پر بھی مقبرے بنے ہوئے تھے؟مدینہ کے ایک مورخ علی بن موسی اس سلسلے میں لکھتے ہیں:  "و قبة آل البیت العظام و هی أکبر القباة..."؛ یعنی ائمہ اطہار کا روضہ بقیع میں موجود دیگر تمام مقبروں سے بڑا تھا۔اس سے زیادہ اہم بات ابراہیم رفعت پاشا کی ہے کہ جس نے اس روضے کے انہدام سے ۱۹ سال پہلے یوں اس کی تعریف میں لکھا: ’’بقیع میں موجود تمام مقبروں سے بڑا مقبرہ ائمہ اطہار (ع)کا تھا‘‘۔ان دو شخصیات کی باتوں سے دو نتیجے سامنے آتے ہیں:پہلا: ان دو شخصیتوں کی باتوں سے یہ سمجھ میں آتا ہے کہ ائمہ اطہار(ع) کی قبور ہمیشہ سے مسلمانوں کے نزدیک قابل احترام تھیں اورعلمائے اہلسنت میں سے کسی نے بھی ان کے بدعت ہونے کا فتویٰ نہیں دیا۔ یہ خود ایک بہترین دلیل ہے اس بات پر کہ سو سال پہلے جو وہابیوں نے روضہ بقیع کو مسمار کیا ان کا یہ اقدام پورے عالم اسلام کے عقائد کے خلاف تھا۔دوسرا: جس طرح اس دور میں ائمہ اطہار(ع) کی قبروں پر روضہ تعمیر کیا جاتا تھا دیگر اسلامی شخصیات کی قبروں پر بھی مقبرے تعمیر کئے جاتے تھے۔یہ علماء اور مورخین جن کے میں نے نام لیے ہیں ان میں سے کوئی بھی شیعہ نہیں ہے۔ یہ سب اہلسنت کے علماء اور بزرگان میں سے ہیں۔ لہذا مجھے امید ہے کہ میری ان گزارشات کو اہلسنت والجماعت غور سے پڑھیں اور جان لیں کہ یہ غیر معمولی حالت جو اس وقت ائمہ بقیع کی قبور اور بقیع میں مدفون دیگر شخصیات کی قبروں کی ہے طول تاریخ میں کسی بھی سلف صالح اور بزرگان کی سیرت سے میل نہیں کھاتی ہے۔بنابرایں، چوتھی صدی سے لے کر تیرہویں صدی ہجری تک ان قبور پر مقبرے بنے رہے اور ان چیزوں کو اسلامی شعائر اور عبادی امور میں شمار کیا جاتا رہا ہے۔ یہاں تک کہ ایک وہابی تکفیری گروہ سامنے آیا اور اس نے ۱۳۴۴ میں اس گنبد کو مسمار کر دیا اور بارگاہ بقیع کو مٹا دیا۔